پاکستان
کمزور پاس ورڈز سے سائبر جرائم کا خطرہ: ماہرین کی ہدایت

ماہرین نے خبردار کیا کہ کمزور پاس ورڈز سائبر حملوں کا آسان ہدف ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں مضبوط پاس ورڈز کی اہمیت پر زور دیا گیا اور صارفین کو عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔
پاکستان میں سائبر جرائم کا بڑھتا ہوا رجحان، کمزور پاس ورڈز کو ایک اہم خطرے کے طور پر سامنے لاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین اکثر سہولت کے لیے مختصر یا آسان پاس ورڈز استعمال کرتے ہیں اور کئی اکاونٹس پر ایک ہی پاس ورڈ رکھ دیتے ہیں، جس سے ہیکرز کو رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ مضبوط پاس ورڈ بنانے کے لیے کم از کم آٹھ حروف، بڑے اور چھوٹے حروف، نمبرز اور خاص علامات کا امتزاج ضروری ہے۔ ساتھ ہی دو مرحلہ توثیق (2FA) کو فعال کرنا اور پاس ورڈ مینیجر کا استعمال کرنا بھی محفوظ رہنے کے موثر طریقے ہیں۔



