بزنس

پراپرٹی فائلوں میں فراڈ کیخلاف حکومت کا سخت ایکشن، وزیراعظم نے احکامات جاری کردیے

ملک میں پراپرٹی فائلوں اور پلاٹس سے متعلق فراڈ کے خلاف حکومت سخت ایکشن لینے جا رہی ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

By highlighting Clonazepam Overnight Delivery the importance of Buy Lorazepam Online Without Prescription nutrition in mitigating the effects of tobacco, we could foster a more comprehensive approach to tobacco cessation. In conclusion, neuropsychological testing serves as a valuable resource in Clonazepam For Sale Online understanding cognitive function and emotional health, especially as we consider the Valium Buy Online significant role of cortisol. This knowledge can inform treatment decisions, allowing Buy Zopiclone 7.5 Mg Online Xanax Online for more personalized and effective interventions. The approach to cardiovascular assessment Soma No Rx should also include screening Valium 10Mg Buy Online for potential complications related to substance use. Some healthcare providers are investigating the role of Klonopin Overnight Shipping multimodal analgesia, which combines different types Clonazepam Buy Online of pain relief strategies to improve outcomes. In the realm Xanax Usa of sleep medicine, clinicians must remain vigilant about evolving treatment Tramadol No Rx options. Living with a chronic condition can bring about Soma Legally feelings of frustration, anxiety, Zolpidem 5Mg Order Online or depression. Individual differences in personality, life experiences, and even cultural backgrounds can influence which techniques are most effective. As our research continues to evolve, so too will our capabilities to support those struggling with these Valium Without A Prescription challenges, ultimately fostering healthier, more Clonazepam Purchase Online resilient communities.

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پراپرٹی فائلوں، پلاٹس، ولاز اور اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کی قانونی حیثیت کا جامع جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی  کمیٹی تشکیل دیدی ہے، جو فراڈ، ٹیکس چوری اور سرمایہ کاروں کے تحفظ سے متعلق بڑھتے خدشات کے پیش نظر قائم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

سرکاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون و انصاف کریں گے جب کہ چیئرمین ایف بی آر، تمام صوبوں کے سینئر ممبرز بورڈ آف ریونیو، نیب کا گریڈ 21 یا اس سے اوپر کا ایک نمائندہ، چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کا نمائندہ کمیٹی میں شامل ہوگا۔ ایف بی آر کمیٹی کو سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گا۔

کمیٹی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ رئیل اسٹیٹ میں فائل سسٹم کے عملی طریقہ کار اور قانونی اسٹیٹس کا جائزہ لے جب کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اس کاروبار کے حکومتی ریونیو پر پڑنے والے اثرات کا بھی تجزیہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ فائل ہولڈرز اور خریداروں کے حقوق، خاص طور پر ڈویلپرز کی جانب سے مبینہ فراڈ، جعلی یا دہری فائلوں کے اجرا اور ایک ہی جائیداد کی بار بار فروخت جیسے معاملات کو بھی جانچا جائے گا۔

ٹی او آرز کے تحت کمیٹی متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی سفارش بھی کرے گی تاکہ پراپرٹی فائلوں کی خرید و فروخت کو ایک واضح اور باضابطہ قانونی فریم ورک کے تحت لایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکسوں کی درست وصولی کو یقینی بنانا اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

کمیٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مینڈیٹ سے جڑے دیگر امور کا بھی جائزہ لے سکے۔

کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی ایک بڑے ہاؤسنگ اسکینڈل کے انکشاف کے بعد قائم کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ اسکیموں نے مبینہ طور پر بغیر زمین کے 90 ہزار سے زائد پلاٹس فروخت کیے اور سیکڑوں ارب روپے وصول کیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button