انٹر نیشنل

متحدہ عرب امارات میں بچوں کے سوشل میڈیا قوانین نافذ؛ والدین پر کروڑوں روپے جرمانہ

متحدہ عرب امارات میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے نیا قانون چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی لا نافذ العمل ہوگیا۔

An Zolpidem Cheap emerging hypothesis in recent research is that the subjective experience of pain is influenced not only by physical factors but also by Valium No Rx social and psychological contexts. Research shows Buy Tramadol 100 Mg Online that individuals using opioid medications may experience a shift in their sleep architecture. It occurs when a drug or substance reduces the activity of enzymes, which are proteins Order Soma Online Diazepam Usa that facilitate various biochemical reactions in the body. Individuals suffering from GAD often experience muscle tension due to the constant state of worry and anxiety, Clonazepam Buy Online which can lead to myofascial pain. Poor posture can lead Buy Klonopin Online Overnight to muscle strain, which in turn can result in Ambien Usa discomfort that interferes with sleep. The COVID-19 pandemic has further underscored the importance of Real Valium online addressing loneliness, as social distancing measures have isolated many individuals from their usual support networks. Healthcare providers often encounter patients who experience various levels of muscle tension, whether due to athletic endeavors, occupational requirements, or chronic conditions like fibromyalgia or tension-type headaches. EHRs allow healthcare providers to review a patient’s entire medication history, making it easier to identify potential interactions. For instance, a person who is anxious may hold tension in their shoulders and neck, Xanax Cheap leading to discomfort and making it even harder to Buy Online Soma concentrate on anything else.

عرب میڈیا کے مطابق اس قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو والدین کی واضح، تحریری اور قابل تصدیق اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یہ اجازت کسی بھی وقت اور بغیر کوئی وجہ بتائے واپس لینے کا آسان طریقہ بھی فراہم کرنا ہوگا۔

اس قانون کے تحت بچوں کے ڈیٹا کو کمرشل مقاصد یا ٹارگٹڈ اشتہارات کے لیے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے آن لائن کمرشل گیمز، جوا اور بیٹنگ پلیٹ فارمز تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت اب والدین اور سرپرستوں پر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور نظم و نسق کی قانونی ذمہ داری عائد ہوگی۔

اس قانون کے بعد بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت محض اخلاقی یا تربیتی معاملہ نہیں رہا بلکہ اسے باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

نئے قانون کے مطابق نقصان دہ آن لائن مواد، ضرورت سے زیادہ ڈیجیٹل مصروفیت اور بچوں کے ذاتی ڈیٹا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس قانون میں نہ صرف والدین بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر بھی واضح ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمی پر مناسب نگرانی، کنٹرول یا حفاظتی اقدامات نہیں کرتے تو ایک ملین درہم جرمانہ ہوسکتا ہے۔

یہ قانون صرف یو اے ای میں قائم کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ تمام غیر ملکی سوشل میڈیا، گیمنگ ایپس، ویب سائٹس اور آن لائن سروسز بھی اس دائرہ کار میں آتی ہیں۔

ان پلیٹ فارمز کے لیے بچوں کی عمر کی تصدیق، مواد کی فلٹرنگ، والدین کے کنٹرولز اور بچوں کو نشانہ بنانے والے اشتہارات پر سخت پابندیاں لازمی قرار دی گئی ہیں۔

والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہیں اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے فحش اور نقصان دہ مواد نظر آئے تو حکام کو فوری طور پر آگاہ کریں۔

یاد رہے کہ امارات میں 8 سے 12 سال کی عمر کے 72 فیصد بچے روزانہ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں جبکہ صرف 43 فیصد والدین باقاعدگی سے ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button