سعودی ٹینکر کو ہرمز گزرنے پر ایران نے نشانہ بنایا

سعودی عرب نے ایران کی طرف سے ہرمز گزرنے والی ٹینکر پر حملے کو شدید مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے عالمی سلامتی پر اثرات کا انتباہ کیا اور ایران پر مزید پابندیاں ڈالتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعاون کا اقرار کیا۔
ریاض (08 جولائی 2026) – سعودی عرب نے ایران کی جانب سے ہرمز گزرنے والی ایک سعودی ٹینکر پر میزائل حملے کو شدید مذمت کی، جو عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا گیا۔
حملے کے دوران، سعودی ٹینکر وجیان کو ہرمز کے قریب ایک ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا، جس سے ٹینکر میں آگ لگ گئی اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ کارروائی نہ صرف تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتی ہے بلکہ عالمی سلامتی پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔
سعودی حکام نے ایران کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یہ کارروائی عالمی قوانین اور بین الاقوامی سلامتی کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے اور امریکہ کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کا وعدہ کیا۔
انٹرنیشنل سطح پر اس واقعے نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا باعث بنا، جبکہ امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایران میں مخصوص اہداف پر فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا۔
متبادل توانائی اور عالمی توانائی مارکیٹ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو عالمی توانائی کی فراہمی میں مزید بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے مشترکہ اقدامات سے مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کی امید ظاہر کی گئی۔




