کراچی کے انڈر پاس اور فلائی اوور میں پانی جمع ہونے کا سبب

کراچی میں 46 فلائی اوور اور 14 انڈر پاس بارش میں پانی جمع کرنے کی وجہ سے تالاب بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب تعمیراتی ڈیزائن اور ڈرینج سسٹم کی کمی ہے۔
کراچی میں 46 فلائی اوور اور 14 انڈر پاس بارش کے موسم میں پانی جمع ہو کر تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال بنیادی طور پر تعمیراتی ڈیزائن اور ڈرینج سسٹم کی ناکافی منصوبہ بندی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
1980 سے کراچی میں فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر شروع ہوئی، خاص طور پر میئر مصطفیٰ کمال کے دور میں ان کا نفاذ تیز ہوا۔ ان سڑکوں کا ڈھانچہ اکثر ہلکی ڈرینج لائنوں پر مبنی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بارش کے پانی کا بہاؤ مناسب طریقے سے نہیں ہو پاتا۔ اس کے نتیجے میں سڑک کے کناروں اور انڈر پاس کے اندر پانی جمع ہو جاتا ہے۔
برطانوی دور میں بنے ہوئے پل اور سڑکیں عموماً مضبوط ڈرینج سسٹم کے ساتھ تعمیر کی جاتی تھیں، جس کی وجہ سے وہ پانی جمع ہونے کے مسئلے سے محفوظ رہتے ہیں۔ کراچی کے حالیہ منصوبوں میں یہ تکنیکی فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔
مقامی حکام اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ڈرینج سسٹم کو بہتر بنانے اور سڑکوں کے ڈیزائن میں تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں بارش کے بعد پانی جمع نہ ہو۔




