پاکستان

جج افضل مجوکہ: پلیسینٹا کا بال لگوانے میں استعمال؟

اسلام آباد عدالت میں جج افضل مجوکہ نے ہیئر ٹرانسپلانٹ میں پلیسینٹا کے استعمال پر سوال کیا۔ وکلاء نے واضح کیا کہ پلیسینٹا کو انسانی اعضاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔ عدالت نے اس کیس کو جاری رکھا۔

اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایک انسانی اعضاء کیس کی سماعت کے دوران جج افضل مجوکہ نے ایک دلچسپ سوال اٹھایا۔

جج نے پوچھا: "میں نے بال لگوائے ہیں، کیا اس میں پلیسینٹا استعمال ہوا؟” جس پر عدالت میں ہنسی کا گونج اٹھا۔

وکلاء نے واضح کیا کہ پلیسینٹا کو انسانی اعضاء میں شمار نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا طبی استعمال ہوتا ہے، اور بال لگوانے کے جدید طریقہ کار میں پلیسینٹا ٹشوز کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جج نے ریمارکس میں کہا کہ وہ خود بھی بال لگوانے کا تجربہ رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں مزید سوالات اٹھائے۔

عدالت نے اس کیس کو جاری رکھا اور مستقبل میں انسانی اعضاء کے استعمال پر مزید وضاحت کی توقع ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button