پاکستان

سپریم کورٹ نے باپ کے قاتل بیٹے کو رہا کیا

سپریم کورٹ نے 2013 کے قتل کے مقدمے میں محمد صفدر کو صلح کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے نئے قانون کے اطلاق سے انکار کیا اور قدیم عدالت کے فیصلوں کو مدنظر رکھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے 4 مئی 2026 کو اعلان کیا کہ 2013 کے قتل کے مقدمے میں محمد صفدر کو صلح کے بعد رہا کیا جائے۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ 2017 کے ترمیمی ایکٹ کے تحت عدالت ملزم کو صلح کے باوجود سزا دے سکتی ہے، مگر موجودہ کیس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ محمد صفدر کے وکیل، دل محمد علیزئی نے عدالت میں یہ دلائل پیش کیے کہ یہ کیس 2013 کا ہے اور اس پر نئے ایکٹ کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے متعدد سابقہ فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور قرآن پاک میں صلح کے عمل کو اہمیت دیتے ہوئے، ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلے سے قانونی نظام میں صلح اور عدل کے درمیان توازن پر مزید بحث کا آغاز ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button