سندھ ہائیکورٹ نے علی رضا عابدی قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات خارج کی

سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم رہنما علی رضا عابدی کے قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات کو خارج کرتے ہوئے مجرموں کی قید کی مدت کم کر کے جرمانہ پر رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے پولیس کی تفتیش میں خامیاں اور غیر پیشہ ورانہ کارروائی پر بھی زور دیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے آج ایم کیو ایم رہنما علی رضا عابدی کے قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات کو خارج کرتے ہوئے مجرموں کی قید کی مدت کو کم کر کے جرمانہ کی ادائیگی پر رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس کی جمع کردہ اعترافی بیانات قانون شہادت کے تحت ناقابل قبول ہیں، کال ڈیٹا ریکارڈ کسی موبائل کمپنی سے تصدیق شدہ نہیں تھا، اور سی سی ٹی وی فوٹیج نہ لیں اور اسلحہ کی عدم برآمدگی کے سبب تفتیش میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ ہائی پروفائل کیس میں غیر پیشہ ورانہ اور کمزور تفتیش کی گئی، اس لیے عدالت نے آئی جی سندھ کے تفتیشی افسران کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لینے کا حکم بھی دیا۔ یہ فیصلہ عدالت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی دفعات صرف وہی معاملات میں لاگو ہوں گے جہاں قانونی بنیادیں مضبوط ہوں۔




