انند نرائن ملّا: اردو کے مجاہدِ اردو کا حوصلہ افزا سفر

انند نرائن ملّا، ۱۹۰۱ء میں لکھنؤ میں پیدا ہونے والے اردو کے مجاہدِ اردو، نے ۱۹۹۷ء میں وفات کے بعد بھی اپنی زبان کی حفاظت کا عزم برقرار رکھا۔ ان کے بیانات نے اردو کی اہمیت اور مسلمانوں کی شناخت پر روشنی ڈالی۔
انند نرائن ملّا، جن کا اصل نام مسعود حسین خان تھا، ۱۹۰۱ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور بعد میں دلّی میں مقیم ہو کر اردو کے مشہور شاعر اور مضمون نگار بن گئے۔ وہ اردو زبان کے پرجوش حامی تھے اور اپنے دور کے ادبی منظرنامے میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ۱۹۹۷ء میں ان کی وفات کے بعد بھی ان کے خیالات اور لکھے ہوئے خطبے اردو زبان کی قدر و منزلت کو بڑھاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر یہ واضح کیا کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ سکتے ہیں لیکن اردو زبان نہیں چھوڑیں گے۔ یہ بیان نہ صرف ان کے ذاتی عزم کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اردو کے ادبی ورثے کی حفاظت کا بھی ایک مضبوط پیغام ہے۔ ان کے کام اور خیالات نے اردو کے مستقبل کے لیے ایک روشن راہ دکھائی، جس سے ادبی محفلوں میں زبان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کی زندگی اور خدمات اردو ادب کے لیے ایک الہام کا باعث بنی اور ان کے نام پر مختلف ادبی ایونٹس اور پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔




