2025; دنیا بھر کی اہم جنگوں اور تنازعات میں کتنے لاکھ افراد موت کا شکار ہوئے؟

2024 کے اواخر میں اسرائیل کی دو ماہ طویل زمینی کارروائی کے بعد لبنان میں ایک وسیع تر بفر زون قائم کیا گیا، جس کے بعد نومبر 2024 میں جنگ بندی طے پائی، اگرچہ فضائی حملے جاری رہے۔
دسمبر 2024 میں شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں سے آگے اپنی بفر زون میں توسیع کی اور سابقہ حکومتی فوجی اڈوں پر حملے کیے، جس سے نئی حکومت کی دوبارہ مسلح ہونے کی صلاحیت محدود ہو گئی۔ جون 2025 تک نئی شامی حکومت اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی خواہاں نظر آتی ہے۔
یمن میں حوثی ملیشیا نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً اسرائیل اور مغربی تجارتی جہازوں پر میزائل حملے کیے۔ 2024 میں امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کی حمایت کی، تاہم 2025 میں ایک جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی آئی۔
ایران اسرائیل جنگ
2025 کا سب سے اہم واقعہ اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ تھی۔ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر اچانک فضائی حملے کیے، جن میں اعلیٰ فوجی، سیاسی رہنما اور جوہری سائنسدان مارے گئے۔
ایران کے مطابق 600 سے 1,000 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں تقریباً 30 افراد مارے گئے۔ 22 جون کو امریکہ نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جن میں فردو کی زیرِ زمین تنصیب شامل تھی۔ 24 جون کو جنگ بندی نافذ ہوئی اور اس کے بعد کشیدگی کم ہو گئی۔
سوڈان کی خانہ جنگی
سوڈان کی خانہ جنگی اپریل 2025 میں اپنے تیسرے سال میں داخل ہو گئی اور یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے۔ 2024 کے آخر میں اندازاً 1 لاکھ 50 ہزار شہری ہلاک ہو چکے تھے، جبکہ 2025 کے وسط تک مجموعی ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ 90 لاکھ افراد اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 30 لاکھ سے زائد پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔
تقریباً 5 کروڑ آبادی والے ملک میں دو تہائی افراد امداد کے محتاج ہیں، جن میں 1 کروڑ 60 لاکھ بچے شامل ہیں۔ دارفور میں RSF پر نسل کشی، اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ سوڈان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جنوری 2025 میں سوڈانی ڈاکٹروں کی یونین نے رپورٹ کیا کہ 18 ماہ میں غذائی قلت کے باعث 5 لاکھ 22 ہزار شیر خوار بچے ہلاک ہوئے۔
سوڈان میں ملکی فوج اور نیم فوجی دستے کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے
یہ جنگ اپریل 2023 میں RSF اور فوج (SAF) کے درمیان شروع ہوئی۔ مارچ 2025 میں خرطوم پر فوج کے دوبارہ قبضے کو اہم سنگ میل سمجھا گیا۔ RSF دارفور کے بیشتر حصے پر قابض ہے، جبکہ فوج دارالحکومت سمیت باقی علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔ کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت نے جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جمہوریہ کانگو (DRC)
2025 میں مشرقی کانگو میں تنازع شدت اختیار کر گیا۔ صرف جنوری اور فروری میں 7,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ پانچ ملین سے زائد افراد بے گھر ہیں۔ معدنی وسائل پر قبضے کے لیے مسلح گروہ سرگرم ہیں، جن پر جنگی جرائم اور جنسی تشدد کے الزامات ہیں۔ M23 گروہ نے جنوری 2025 میں گوما اور بعد میں بوکاوو پر قبضہ کیا۔
جون 2025 میں امریکہ کی ثالثی سے کانگو اور روانڈا کے درمیان معاہدے ہوئے، تاہم M23 اس میں شامل نہیں تھا۔
بھارت-پاکستان تنازع
مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ ہوئی۔ 22 اپریل کو کشمیر میں ایک حملے میں 26 شہری مارے گئے۔ 7 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی کارروائی کی۔ دونوں جانب میزائل اور ڈرون حملوں میں بھارت میں تقریباً 30 اور پاکستان میں 50 سے زائد افراد موت کا نشانہ بنے، جن میں 75 فیصد شہری تھے۔ 10 مئی کو جنگ بندی ہو گئی، جو اب تک برقرار ہے۔
میانمار کی خانہ جنگی
2021 سے جاری جنگ میں 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک، 30 لاکھ بے گھر اور 10 لاکھ ملک چھوڑ چکے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے زیادہ منقسم جنگ ہے، جس میں 1,600 سے زائد گروہ شامل ہیں۔
فوجی حکومت پر جنگی جرائم، شہریوں پر بمباری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ مارچ 2025 کے زلزلے کے بعد عارضی جنگ بندیاں ہوئیں، مگر زیادہ تر ٹوٹ گئیں۔
سب صحارا افریقہ میں بغاوتیں
مغربی افریقہ میں نائجر، مالی اور برکینا فاسو میں شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔ تینوں ممالک میں حالیہ برسوں میں فوجی بغاوتیں ہوئیں اور روسی ویگنر گروپ کے ساتھ تعاون کیا گیا۔ دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خدشہ دیگر ممالک تک بڑھ رہا ہے۔ نائجیریا، کیمرون، موزمبیق اور صومالیہ میں بھی شدید بدامنی جاری ہے۔ موزمبیق میں 2024 کے متنازع انتخابات کے بعد مظاہروں میں کم از کم 250 افراد مارے گئے۔




