پاکستان

سن آف کونکورڈ نے آواز کی رفتار عبور کر لی

X-59 سپرسونک مسافر طیارے نے آزمائشی پرواز میں آواز کی رفتار کو عبور کر کے تاریخی سنگِ میل حاصل کیا۔ یہ کامیابی امریکی ناسا کے ذریعے ممکن ہوئی۔ مستقبل میں نیویارک اور لندن کے درمیان سفر کا وقت 4 گھنٹے سے کم ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے ناسا ادارے کے تیار کردہ سپرسونک مسافر طیارے X‑59 نے 16 جون 2026 کو نیویارک میں ایک آزمائشی پرواز کے دوران آواز کی رفتار کو کامیابی سے عبور کیا۔ اس تاریخی پرواز کا مقصد ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا اور کمرشل فضائی سفر کو تیز اور پرسکون بنانا تھا۔ X‑59 نے 81 منٹ تک چلنے والی پرواز میں آواز کی رفتار کے حدود کو پار کیا، جس سے دنیا بھر میں بڑے شہروں کے درمیان سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ ناسا کے مطابق، یہ کامیابی سپرسونک ٹیکنالوجی میں ایک نیا سنگِ میل ہے اور مستقبل میں نیویارک، لندن اور دیگر بڑے شہروں کے درمیان فاصلہ 4 گھنٹے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ اس پرواز کے بعد، مزید ٹیسٹ اور سرٹیفیکیشن کے مراحل طے کیے جائیں گے تاکہ تجارتی سطح پر سپرسونک مسافر طیارے کو استعمال کیا جا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button