چین میں اے آئی برطرفی غیر قانونی قرار

چین کی ایک عدالت نے ہانگژو میں فِن ٹیک کمپنی کے خلاف فیصلہ کیا کہ اے آئی کے بہانے ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی ہے۔ یہ فیصلہ AI کی وجہ سے بڑھتی بے روزگاری کے خدشات کے تناظر میں ملازمین کے حقوق کی حفاظت کا اہم قدم ہے۔
چین کی ہانگژو میں واقع ایک فِن ٹیک کمپنی کے 35 سالہ ملازم ژو کو تنزلی اور تنخواہ میں کمی قبول کرنے سے انکار کرنے پر کمپنی نے اسے نوکری سے نکال دیا، اور اس کا کہنا تھا کہ اس کی جگہ اے آئی کے ذریعے کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ژو نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ یہ برطرفی غیر قانونی ہے۔ ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے جج شی گوانگ چیانگ نے فیصلہ کیا کہ کسی کمپنی کے لیے اے آئی کے بہانے ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی ہے۔ یہ فیصلہ AI کی وجہ سے بڑھتی بے روزگاری کے خدشات کے تناظر میں ملازمین کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ملازمین کے کام کے بدلنے کے بجائے ان کی جگہ لینے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد چین میں AI پر مبنی برطرفی کے خلاف مزید قانونی کارروائیوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔




