عدالت نے اسلحہ لائسنس فیسوں میں اضافے پر درخواستیں خارج

پشاور ہائیکورٹ کے جج انعام اللہ نے 34 صفحے کا فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلحہ لائسنس اور تجدید کی فیسوں میں اضافے کو قانونی قرار دیتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کر دی گئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کے پالیسی معاملات میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔
پشاور ہائیکورٹ کے معزز جج انعام اللہ نے 34 صفحے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلحہ لائسنس کے اجرا اور تجدید کی فیسوں میں 100٪ سے زائد اضافے کو قانونی قرار دیا گیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ حکومت کے پالیسی معاملات میں عدالت کا بلاوجہ مداخلت جائز نہیں ہے۔ اس فیصلے کے تحت تمام درخواستیں خارج کر دی گئیں جو اس فیسوں میں اضافے کے خلاف تھیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے لیے فیسوں کا مناسب سطح پر برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے بعد اسلحہ لائسنس کی فیسوں میں مزید کسی قسم کا اضافہ ممکن نہیں سمجھا جائے گا۔




