صحافی مجاہد حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا
پاکستان پریس کلب بیلجیئم کے سالانہ پروگرام میں انسانی حقوق اور تحقیقی صحافت کے اعتراف میں اہم اعزاز

برسلز: (آمن نیوز) پاکستان کے معروف صحافی اور تحقیقاتی رپورٹر مجاہد حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے یہ اعزاز پاکستان پریس کلب بیلجیئم کے سالانہ پروگرام “خالد حمید فاروقی میموریل فیسٹیول” میں حاصل کیا۔
تقریب میں علی رضا سید نے ان کا ایوارڈ حافظ منیب راشد کے حوالے کیا۔ یورپ کے دارالحکومت برسلز میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں صحافتی، سماجی اور کمیونٹی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پریس کلب بیلجیئم کے سینئر رکن شیر از راج نے کہا کہ پریس کلب کے قیام کا بنیادی مقصد آزادیٔ صحافت کا تحفظ اور اعلیٰ صحافتی اقدار کے فروغ کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبر اور دباؤ کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم طبقات کا ساتھ دینا ہی حقیقی صحافت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجاہد حسین ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے تحقیقاتی صحافت کے ذریعے طاقتور حلقوں کی کرپشن کو بے نقاب کیا اور ہمیشہ انسانی حقوق کے دفاع میں آواز بلند کی۔
مجاہد حسین 1968 میں سیالکوٹ کے ایک سرحدی گاؤں ہرپال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج سیالکوٹ سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ انہوں نے 1990 کی دہائی کے آغاز میں صحافتی کیریئر شروع کیا اور محدود وسائل کے باوجود تحقیقاتی صحافت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اپنی رپورٹنگ کے دوران انہوں نے انسانی حقوق، بچوں، خواتین، مزدوروں اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر مسلسل آواز اٹھائی۔ فرقہ واریت اور اس کے اثرات پر ان کی تحقیقات کو خاص پذیرائی حاصل ہوئی، تاہم اسی وجہ سے انہیں شدید دباؤ اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
2003 میں حالات کے باعث انہوں نے پاکستان چھوڑ کر بیلجیئم میں سیاسی پناہ لی، تاہم 2007 میں دوبارہ صحافت کا آغاز کیا۔ 2011 میں ان کی معروف کتاب “پنجابی طالبان” کی اشاعت کے بعد انہیں قانونی مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
اس وقت وہ جھوٹے مقدمات میں پھنسے افراد اور ان کے خاندانوں کی قانونی و اخلاقی مدد کر رہے ہیں۔ ان کی جرات مندانہ صحافت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کے اعتراف میں انہیں حال ہی میں ادارہ “بلیک ہول” کی جانب سے “ہیومن رائٹس ڈیفنڈر ایوارڈ” بھی دیا گیا۔
مجاہد حسین اب تک 10 کتابوں کے مصنف ہیں، متعدد ڈاکیومنٹریز بنا چکے ہیں اور سینکڑوں انٹرویوز کر چکے ہیں۔ ان کی تحقیقاتی اور تخلیقی صحافت کا سفر بدستور جاری ہے۔
آمن نیوز صحافت، تحقیق اور انسانی حقوق کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔




